Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 414 (سنن أبي داود)

[414]صحیح

صحیح بخاری (552) صحیح مسلم (626)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: ((الَّذِي تَفُوتُہُ صَلَاةُ الْعَصْرِ،فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ)) قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ: ((أُوتِرَ)) وَاخْتُلِفَ عَلَی أَيُّوبَ فِيہِ،وَقَالَ الزُّہْرِيُّ: عَنْ سَالِمٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: ((وُتِرَ))،

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس کی نماز عصر فوت ہو جائے تو گویا اس سے اس کے گھر والے اور مال چھین لیا گیا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن عمر نے حدیث کے لفظ ((وتر)) کو ((أتر)) ہمزہ کے ساتھ بیان کیا اور ایوب کے تلامذہ میں (اس لفظ کے بارے میں) اختلاف ہے (یعنی کوئی واؤ سے بیان کرتا ہے اور کوئی ہمزہ سے۔معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔) اور زہری نے ((سالم عن أبیہ عن النبی ﷺ)) سے ((وتر)) بیان کیا ہے۔