Sunan Abi Dawood Hadith 4149 (سنن أبي داود)
[4149]صحیح
صحیح بخاری (2613)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ،حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ،عَنْ نَافِعٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَتَی فَاطِمَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،فَوَجَدَ عَلَی بَابِہَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ-قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِہَا-،فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،فَرَآہَا مُہْتَمَّةً،فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ،فَأَتَاہُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْہَا أَنَّكَ جِئْتَہَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْہَا،قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا! وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ،فَذَہَبَ إِلَی فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَتْ،قُلْ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ: مَا يَأْمُرُنِي بِہِ؟ قَالَ: قُلْ لَہَا: فَلْتُرْسِلْ بِہِ إِلَی بَنِي فُلَانٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے،ان کے دروازے پر پردہ دیکھا تو آپ ﷺ اندر داخل نہ ہوئے۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بہت کم ایسے ہوتا کہ آپ گھر جائیں (اور ان کے ہاں نہ جائیں) اور پھر ان کے ہاں سے ابتداء کرتے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ غمگین ہیں۔پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ میرے ہاں آئے تھے مگر اندر داخل نہیں ہوئے۔چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ کو یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ اس کے ہاں گئے مگر اندر داخل نہیں ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں کیا اور دنیا کیا؟ (مجھے دنیا سے کیا سروکار؟) میں کیا اور نقش دار پردے کیا؟‘‘ (میرا ان سے کیا واسطہ) چنانچہ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کی بات بتلائی۔پس انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے کہو کہ اسے بنی فلاں کے پاس بھیج دے۔“