Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4190 (سنن أبي داود)

[4190]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (3636 وسندہ صحیح) والنسائي (5055 وسندہ صحیح، سفیان الثوري صرح بالسماع عندہ)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ ہِشَامٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ ہُوَ أَخُو قَبِيصَةَ وَحُمَيْدُ بْنُ خُوَارٍ،عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ،قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ،فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ،قَالَ: ذُبَابٌ! ذُبَابٌ!،قَالَ: فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُہُ،ثُمَّ أَتَيْتُہُ مِنَ الْغَدِ،فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ،وَہَذَا أَحْسَنُ.

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے بال بہت لمبے تھے ‘ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمانے لگے ’’نحوست ہے ‘ نحوست ہے۔‘‘ چنانچہ میں واپس گیا اور انہیں کاٹ ڈالا اور پھر اگلے دن حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں نے تجھے کوئی بری بات نہیں کہی تھی اور اب یہ بہتر ہے۔‘‘