Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4192 (سنن أبي داود)

[4192]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (5229 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (4463)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ وَابْنُ الْمُثَنَّی،قَالَا: حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِيرٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمْہَلَ آلَ جَعْفَرٍ-ثَلَاثًا-أَنْ يَأْتِيَہُمْ،ثُمَّ أَتَاہُمْ،فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَی أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ،ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي،فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ،فَقَالَ: ادْعُوا لِيَ الْحَلَّاقَ. فَأَمَرَہُ،فَحَلَقَ رُءُوسَنَا.

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) نبی کریم ﷺ نے آل جعفر کو تین دن تک کچھ نہ کہا ‘ پھر ان کے پاس آئے اور فرمایا ’’آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔‘‘ پھر فرمایا ’’میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ۔‘‘ پس ہمیں لایا گیا ‘ گویا ہم چڑیا کے بچے تھے۔(یعنی ہمارے سروں کے بال بکھرنے ہوئے تھے) تو آپ نے فرمایا ’’میرے پاس حجام کو بلاؤ۔‘‘ تو آپ نے اس سے کہا اور اس نے ہمارے سر مونڈ ڈالے۔