Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4225 (سنن أبي داود)

[4225]صحیح

صحیح مسلم (2078 بعد ح2095)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ،عَنْ أَبِي بُرْدَةَ،عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ: قُلِ: اللہُمَّ اہْدِنِي،وَسَدِّدْنِي،وَاذْكُرْ بِالْہِدَايَةِ ہِدَايَةَ الطَّرِيقِ،وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّہْمَ. قَالَ: وَنَہَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي ہَذِہِ،أَوْ فِي ہَذِہِ, لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی،شَكَّ عَاصِمٌ وَنَہَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ: مَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ،أَوْ مِنْ مِصْرَ, مُضَلَّعَةٌ, فِيہَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ،قَالَ: وَالْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُہُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِہِنَّ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ’’یہ دعا کیا کرو ((اللہم اہدنی وسددنی)) اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور سیدھا رکھ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہدایت‘‘ میں راستے پر سیدھا چلنے اور ’’سداد‘‘ میں تیر کا نشانے پر لگنے کے معنی پیش نظر رکھا کرو۔‘‘ پھر شہادت والی یا درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ نے مجھے اس میں یا اس میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔یہ شک عاصم کو ہوا ہے اور آپ ﷺ نے مجھے ((قسی))اور ((میثرۃ)) سے بھی منع فرمایا۔سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ((قسی)) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: اس سے مراد نارنگی کی طرح منقش کپڑے ہیں جو ہمارے پاس شام یا مصر سے آتے ہیں اور ((میثرۃ)) سے مراد وہ گدیاں ہیں جو عورتیں اپنے شوہروں کے لیے بناتی تھیں۔