Sunan Abi Dawood Hadith 4273 (سنن أبي داود)
[4273]صحیح
صحیح بخاری (3855) صحیح مسلم (3023)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَوْ،حَدَّثَنِي الْحَكَمُ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقَالَ: لَمَّا نَزَلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ:وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللہِ إِلَہًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللہُ إِلَّا بِالْحَقِّ[الفرقان: 68], قَالَ مُشْرِكُو أَہْلِ مَكَّةَ: قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللہُ،وَدَعَوْنَا مَعَ اللہِ إِلَہًا آخَرَ،وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ! فَأَنْزَلَ اللہُ: إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللہُ سَيِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ[الفرقان: 70], فَہَذِہِ لِأُولَئِكَ،قَالَ: وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ...[النساء: 93], الْآيَةَ،قَالَ الرَّجُلُ: إِذَا عَرَفَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا, فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ لَا تَوْبَةَ لَہُ. فَذَكَرْتُ ہَذَا لِمُجَاہِدٍ؟ فَقَالَ: إِلَّا مَنْ نَدِمَ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت ((والذین لا یدعون مع اللہ إلہا آخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ إلا بالحق)) نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکین نے کہا: (اب ہمارے ایمان لانے کا کیا فائدہ) ہم نے ناحق جانیں قتل کی ہیں ‘ اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے اور بدکاریوں کا ارتکاب بھی کیا ہے۔تب اللہ نے یہ ارشاد نازل کیا ((إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئک یبدل اللہ سیئاتہم حسنات)) یہ آیتیں انہی مشرکین کے حق میں ہیں۔(سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: لیکن سورۃ نساء کی آیت ((ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جہنم)) ’’ایسے (مسلمان) شخص کے لیے ہے جو اسلامی احکام جانتا ہے پھر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہی‘‘ سعید نے کہا کہ میں نے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی) اس بات کا مجاہد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مگر جو شخص نادم ہو جائے۔(تو اس کی توبہ قبول ہو گی۔انشاءاللہ)