Sunan Abi Dawood Hadith 4282 (سنن أبي داود)
[4282]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (2230 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (5452)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَہُمْ ح،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ سُفْيَانَ ح،وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی،أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ح،وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی،عَنْ فِطْرٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ كُلُّہُمْ،عَنْ عَاصِمٍ،عَنْ زِرٍّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ-, قَالَ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِہِ لَطَوَّلَ اللہُ ذَلِكَ الْيَوْمَ،ثُمَّ اتَّفَقُوا حَتَّی يَبْعَثَ فِيہِ رَجُلًا مِنِّي, أَوْ مِنْ أَہْلِ بَيْتِي, يُوَاطِئُ اسْمُہُ اسْمِي،وَاسْمُ أَبِيہِ اسْمُ أَبِي،زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا. وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: لَا تَذْہَبُ-أَوْ لَا تَنْقَضِي-الدُّنْيَا حَتَّی يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ بَيْتِي, يُوَاطِئُ اسْمُہُ اسْمِي. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَفْظُ عُمَرَ وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَی سُفْيَانَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اگر دنیا (کے فنا ہونے) میں ایک دن بھی باقی ہوا،زائدہ بن قدامہ نے اپنی روایت میں کہا،اللہ اس دن کو لمبا کر دے گا۔پھر سب راوی متفق ہیں۔حتیٰ کہ اللہ اس میں ایک آدمی کو اٹھائے گا جو مجھ سے ہو گا یا میرے اہل بیت میں سے ہو گا،اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا ہو گا۔‘‘ فطر بن خلیفہ کی روایت میں مزید ہے ’’وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی ہو گی۔‘‘ سفیان ثوری کی روایت میں کہا: ’’یہ دنیا اس وقت تک فنا نہیں ہو گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی عرب پر حاکم نہ بن جائے۔اس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر (عمر بن عبید) اور ابوبکر (ابوبکر بن عیاش) کے الفاظ سفیان کی روایت کے ہم معنی ہیں،لیکن ابوبکر نے ((العرب)) کا لفظ ذکر نہیں کیا۔