Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4289 (سنن أبي داود)

[4289]صحیح

صحیح مسلم (2882)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ؟... بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ ﷺ: فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِہًا؟ قَالَ: يُخْسَفُ بِہِمْ, وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی نِيَّتِہِ.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے زمین میں دھنسا دیے جانے والے لشکر کا قصہ بیان کیا۔اس میں ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کا کیا حال ہو گا جسے مجبوراً ان کے ساتھ نکلنا پڑا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ زمین میں دھنسا تو دیا جائے گا مگر قیامت کے دن اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“