Sunan Abi Dawood Hadith 4321 (سنن أبي داود)
[4321]صحیح
صحیح مسلم (2937)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُؤَذِّنُ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ،حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،عَنْ أَبِيہِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ،قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الدَّجَّالَ،فَقَالَ: إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ, فَأَنَا حَجِيجُہُ دُونَكُمْ،وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ, فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِہِ،وَاللہُ خَلِيفَتِي عَلَی كُلِّ مُسْلِمٍ،فَمَنْ أَدْرَكَہُ مِنْكُمْ, فَلْيَقْرَأْ عَلَيْہِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَہْفِ, فَإِنَّہَا جِوَارُكُمْ مِنْ فِتْنَتِہِ. قُلْنَا: وَمَا لَبْثُہُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا, يَوْمٌ كَسَنَةٍ،وَيَوْمٌ كَشَہْرٍ،وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ،وَسَائِرُ أَيَّامِہِ كَأَيَّامِكُمْ،فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ, أَتَكْفِينَا فِيہِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ: لَا, اقْدُرُوا لَہُ قَدْرَہُ،ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ, فَيُدْرِكُہُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ،فَيَقْتُلُہُ.
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا ’’اگر وہ میرے ہوتے ہوئے تم میں ظاہر ہوا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا۔اگر میرے بعد ظاہر ہوا تو پھر ہر شخص خود اپنا دفاع کرنے والا ہے۔ہر مسلمان کے لیے اللہ عزوجل ہی میرا خلیفہ ہے۔چنانچہ تم میں سے جو کوئی اسے پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے یہی تمہارے لیے اس کے فتنے سے امان ہوں گی۔‘‘ ہم نے پوچھا کہ وہ زمین پر کتنا عرصہ رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’چالیس دن۔(ان میں سے) ایک دن ایک سال کے برابر اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا اور باقی دن تمہارے دنوں کے برابر ہوں گے۔‘‘ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ دن جو ایک سال کے برابر ہو گا کیا ہمیں اس میں ایک دن رات کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں ‘ اس کے لیے تم لوگ اندازہ لگا لینا‘‘ پھر دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے ‘ پس وہ اس باب لد کے پاس پائیں گے اور اس کا کام تمام کر دیں گے۔‘‘