Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4325 (سنن أبي داود)

[4325]حسن

وللحدیث شواھد انظر الحدیث الآتي (4326) مشکوۃ المصابیح (5484)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ, أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ،ثُمَّ خَرَجَ،فَقَالَ: إِنَّہُ حَبَسَنِي حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيہِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ،عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ, فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَہَا،قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ،اذْہَبْ إِلَی ذَلِكَ الْقَصْر،ِ فَأَتَيْتُہُ،فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَہُ،مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ،يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ،فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ, خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ،قَالَ: أَطَاعُوہُ أَمْ عَصَوْہُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوہُ،قَالَ ذَاكَ خَيْرٌ لَہُمْ.

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی۔پھر تشریف لائے اور فرمایا ’’مجھے تمیم داری کی باتوں نے روک لیا تھا۔وہ بیان کر رہے تھے کہ سمندری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں ایک آدمی تھا ‘ اور میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی۔پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا: ’’جساسہ‘‘ ہوں ‘ اس محل میں چلے جاؤ ‘ میں وہاں گیا تو اس میں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اوپر نیچے اچھل رہا تھا۔میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں۔کیا عربوں کا نبی آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: کیا ان لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ اطاعت کی ہے۔اس نے کہا: یہ ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘