Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4342 (سنن أبي داود)

[4342]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (3957 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَہُمْ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ, أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ-أَوْ: يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ-يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيہِ غَرْبَلَةً, تَبْقَی حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ, قَدْ مَرِجَتْ عُہُودُہُمْ،وَأَمَانَاتُہُمْ،وَاخْتَلَفُوا, فَكَانُوا ہَكَذَا.-وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِہِ-. فَقَالُوا: وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ: تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ! وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ! وَتُقْبِلُونَ عَلَی أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ! وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: ہَكَذَا رُوِيَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تمہارا اس زمانے میں کیا حال ہو گا‘‘ یا فرمایا ’’عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا (اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھا لیے جائیں گے) اور چھان بورا باقی رہ جائے گا (بےدین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے) جن کے عہد و مواعید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہو گی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہو جائے گا‘‘ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری کے اندر ڈال کر دکھایا۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو نیکی ہو اس پر عمل پیرا ہونا اور جو برائی ہو اس سے دور رہنا اور خاص اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور اپنے عام لوگوں کو چھوڑ دینا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے کئی سندوں سے وارد ہے۔