Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4348 (سنن أبي داود)

[4348]صحیح

صحیح مسلم (2537)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ قَالَ،أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ،قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِہِ،فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ،فَقَالَ: أَرَأَيْتُكُمْ لَيْلَتَكُمْ ہَذِہِ!؟ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْہَا لَا يَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ عَلَی ظَہْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ ہَذِہِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ! وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا يَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْيَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الْأَرْضِ, يُرِيدُ بِأَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری ایام میں ہمیں ایک دن عشاء کی نماز پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا ’’دیکھو کہ تمہاری اس رات میں اب جو کوئی روئے زمین پر موجود ہے سو سال کے بعد ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔‘‘ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں وہم میں پڑ گئے ہیں۔یعنی یہ احادیث جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو سال کے بارے میں روایت کرتے ہیں (کہ شاید سو سال بعد قیامت ہی آ جائے گی انہوں نے کہا) حلانکہ رسول اللہ ﷺ نے تو صرف یہ فرمایا تھا کہ آج جو روئے زمین پر موجود ہے،وہ باقی نہیں رہے گا۔مقصد یہ تھا کہ یہ صدی ختم ہو جائے گی۔