Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4373 (سنن أبي داود)

[4373]صحیح

صحیح بخاری (3732) صحیح مسلم (1688)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْہَبٍ الْہَمْدَانِيُّ،قَالَ: حَدَّثَنِي حديث قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا, أَنَّ قُرَيْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ،فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيہَا-يَعْنِي: رَسُولَ اللہِ ﷺ-؟ قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَكَلَّمَہُ أُسَامَةُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ!،ثُمَّ قَامَ،فَاخْتَطَبَ،فَقَالَ: إِنَّمَا ہَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ, أَنَّہُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيہِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوہُ،وَإِذَا سَرَقَ فِيہِمُ الضَّعِيفُ, أَقَامُوا عَلَيْہِ الْحَدَّ،وَايْمُ اللہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَہَا.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو بنو مخزوم کی اس عورت کی بہت فکر ہوئی جس نے چوری کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کون بات کر سکتا ہے؟ یعنی رسول اللہ ﷺ سے۔کہنے لگے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ اور کوئی یہ جرات نہیں کر سکتا ‘ وہ نبی کریم ﷺ کے چہیتے ہیں۔چنانچہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسامہ! کیا اس حد میں سفارش کرتے ہو جو اللہ کی حدود میں سے ہے؟‘‘ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا ‘ اور فرمایا ’’تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے کہ ان میں سے جب کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے ‘ اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔اور اللہ کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔‘‘