Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4380 (سنن أبي داود)

[4380] إسنادہ ضعیف

نسائی (4881) ابن ماجہ (2597)

أبو المنذر لایعرف (میزان الإعتدال 4 / 577)

انوار الصحیفہ ص 155

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَی أَبِي ذَرٍّ،عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَہُ مَتَاعٌ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟،قَالَ: بَلَی،فَأَعَادَ عَلَيْہِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا،فَأَمَرَ بِہِ،فَقُطِعَ،وَجِيءَ بِہِ،فَقَالَ: اسْتَغْفِرِ اللہَ وَتُبْ إِلَيْہِ. فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللہَ وَأَتُوبُ إِلَيْہِ،فَقَالَ: اللہُمَّ تُبْ عَلَيْہِ.-ثَلَاثًا-. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ،عَنْ ہَمَّامٍ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ،عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.

ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ازخود اعتراف کیا مگر مال اس کے پاس سے نہیں ملا تھا۔تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تو نے چوری کی ہو ہے۔‘‘ اس نے کہا: کیوں نہیں (یعنی کی ہے)۔آپ ﷺ نے دو یا تین بار ایسے ہی کہا۔پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔پھر پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’اللہ سے معافی مانگو اور توبہ کرو۔‘‘ اس نے کہا: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما لے۔‘‘ تین بار فرمایا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو عمرو بن عاصم نے بواسطہ ہمام ‘ اسحاق بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: ابوامیہ جو کہ انصاری آدمی تھے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔