Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4399 (سنن أبي داود)

[4399] إسنادہ ضعیف

الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد: 741) عن علي رضي اللہ عنہ قال لعمر رضي اللہ عنہ: ’’أما بلغک أن القلم قد و ضع عن ثلاثۃ: عن المجنون حتی یفیق و عن الصبي حتی یعقل و عن النائم حتی یستیقظ‘‘ وسندہ صحیح

انوار الصحیفہ ص 155، 156

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ،فَاسْتَشَارَ فِيہَا أُنَاسًا،فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ, مُرَّ بِہَا عَلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللہِ عَلَيْہِ،فَقَالَ: مَا شَأْنُ ہَذِہِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ،فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ! قَالَ: فَقَالَ: ارْجِعُوا بِہَا،ثُمَّ أَتَاہُ،فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّی يَبْرَأَ،وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّی يَسْتَيْقِظَ،وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّی يَعْقِلَ؟ قَالَ: بَلَی،قَالَ: فَمَا بَالُ ہَذِہِ تُرْجَمُ؟ قَالَ: لَا شَيْءَ،قَالَ: فَأَرْسِلْہَا،قَالَ: فَأَرْسَلَہَا،قَالَ: فَجَعَلَ يُكَبِّرُ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔تو انہوں نے اس کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔اور پھر حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس عورت کے پاس سے گزرے انہوں نے پوچھا کہ اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو فلاں کی پاگل عورت ہے اور اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔تو انہوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ اسے واپس لے جاؤ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلے آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ نہیں جانتے کہ تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔پاگل مجنون حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے،سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور بچے سے حتیٰ کہ عقلمند (بالغ) ہو جائے۔انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔کہا: تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مجنون عورت کو رجم کیا جانے لگا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (اب تو) اس پر کچھ نہیں ہو گا۔کہا کہ پھر اسے چھوڑ دیں۔چنانچہ انہوں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔اور راوی نے کہا کہ پھر وہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے لگے۔