Sunan Abi Dawood Hadith 4418 (سنن أبي داود)
[4418]صحیح
صحیح بخاری (6829) صحیح مسلم (1691)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ،حَدَّثَنَا الزُّہْرِيُّ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ, أَنَّ عُمَرَ-يَعْنِي: ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ-خَطَبَ فَقَالَ: إِنَّ اللہَ بَعَثَ مُحَمَّدًا ﷺ بِالْحَقِّ،وَأَنْزَلَ عَلَيْہِ الْكِتَابَ،فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَيْہِ, آيَةُ الرَّجْمِ, فَقَرَأْنَاہَا وَوَعَيْنَاہَا،وَرَجَمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِہِ،وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ الزَّمَانُ،أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللہِ! فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَہَا اللہُ تَعَالَی, فَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ, إِذَا كَانَ مُحْصَنًا, إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ،أَوْ كَانَ حَمْلٌ،أَوِ اعْتِرَافٌ, وَايْمُ اللہِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! لَكَتَبْتُہَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی۔اس نازل کردہ (کتاب) میں رجم کی آیت بھی تھی۔ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے۔مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ رجم والی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں ‘ اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کو ترک کر کے گمراہ نہ ہو جائیں۔پس جس کسی مرد یا عورت نے زنا کیا ہو اور وہ شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا اعتراف ہو ‘ تو اس پر رجم حق ہے۔اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اس آیت کو کتاب اللہ میں درج کر دیتا۔