Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4417 (سنن أبي داود)

[4417] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2606)

الفضل بن دلھم: لین

انوار الصحیفہ ص 156

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ،حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَہْبِيَّ،حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْہَمٍ عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ... بِہَذَا الْحَدِيثِ،فَقَالَ نَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: يَا أَبَا ثَابِتٍ! قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ،لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا،كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: كُنْتُ ضَارِبَہُمَا بِالسَّيْفِ, حَتَّی يَسْكُتَا،أَفَأَنَا أَذْہَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةَ شُہَدَاءٍ،فَإِلَی ذَلِكَ قَدْ قَضَی الْحَاجَةَ! فَانْطَلَقُوا،فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! أَلَمْ تَرَ إِلَی أَبِي ثَابِتٍ،قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: كَفَی بِالسَّيْفِ شَاہِدًا. ثُمَّ قَالَ: لَا،لَا،أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيہَا السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَی وَكِيعٌ أَوَّلَ ہَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ،عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَإِنَّمَا ہَذَا إِسْنَادُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُحَبَّقِ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَی جَارِيَةِ امْرَأَتِہِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَضْلُ بْنُ دَلْہَمٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ كَانَ قَصَّابًا بِوَاسِطَ.

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہوئی ہیں ‘ اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤ تو کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: میں تلوار سے ان دونوں کا کام تمام کر دوں گا حتیٰ کہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں۔کیا بھلا میں چار گواہ ڈھونڈنے جاؤں گا؟ تب تک وہ اپنا کام کر جائے گے (بدکاری کر کے بھاگ جائے گا)۔چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو دیکھا کہ ایسے ایسے کہتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’(ایسے موقع پر) تلوار کی گواہی کافی ہے۔‘‘ پھر فرمایا ’’نہیں،نہیں۔مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی (ویسے ہی) بحالت نشہ یا بوجہ غیرت اس کے درپے نہ ہو جائے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے ‘ انہوں نے جناب حسن سے ‘ انہوں نے قبیصہ بن حریث سے ‘ انہوں نے سلمہ بن محبق سے ‘ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔حالانکہ یہ سن ابن محبق کی اس روایت کی ہے جس میں ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر بیٹھا تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فضل بن دلہم حافظ نہیں ہے۔یہ واسطہ میں قصاب تھا۔