Sunan Abi Dawood Hadith 4421 (سنن أبي داود)
[4421]إسنادہ صحیح
انظر الحدیث الآتي (4427)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ, أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: إِنَّہُ زَنَی, فَأَعْرَضَ عَنْہُ،فَأَعَادَ عَلَيْہِ مِرَارًا،فَأَعْرَضَ عَنْہُ،فَسَأَلَ قَوْمَہُ: أَمَجْنُونٌ ہُوَ!؟،قَالُوا: لَيْسَ بِہِ بَأْسٌ! قَالَ: أَفَعَلْتَ بِہَا؟،قَالَ: نَعَمْ, فَأَمَرَ بِہِ أَنْ يُرْجَمَ،فَانْطُلِقَ بِہِ فَرُجِمَ, وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْہِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: بیشک میں زنا کیا ہے۔تو آپ ﷺ نے اس سے رخ پھیر لیا۔اس نے کئی بار ایسے کہا اور آپ ﷺ اس سے اپنا منہ پھیرتے رہے۔پھر آپ ﷺ نے اس کی قوم سے پوچھا ’’کیا یہ مجنون اور پاگل ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں ‘ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ’’کیا تو نے واقعتاً اس کے ساتھ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا ہاں۔تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔چنانچہ اسے لے جایا گیا اور سنگسار کر دیا گیا اور اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی۔