Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4437 (سنن أبي داود)

[4437]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ،حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّ رَجُلًا أَتَاہُ،فَأَقَرَّ عِنْدَہُ أَنَّہُ زَنَی بِامْرَأَةٍ سَمَّاہَا لَہُ،فَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْمَرْأَةِ،فَسَأَلَہَا،عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ،فَجَلَدَہُ الْحَدَّ وَتَرَكَہَا.

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے،اس نے اس عورت کا نام بھی لیا،تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بدکاری سے انکار کیا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کو حد کے (سو) کوڑے لگائے اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔