Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4451 (سنن أبي داود)

[4451] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث السابق (4450)

انوار الصحیفہ ص 157

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِيِّ،قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: زَنَی رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْيَہُودِ،وَقَدْ أُحْصِنَا-حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمَدِينَةَ-،وَقَدْ كَانَ الرَّجْمُ مَكْتُوبًا عَلَيْہِمْ فِي التَّوْرَاةِ فَتَرَكُوہُ،وَأَخَذُوا بِالتَّجْبِيہِ-يُضْرَبُ مِائَةً بِحَبْلٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ،وَيُحْمَلُ عَلَی حِمَارٍ،وَجْہُہُ مِمَّا يَلِي دُبُرَ الْحِمَارِ-،فَاجْتَمَعَ أَحْبَارٌ مِنْ أَحْبَارِہِمْ،فَبَعَثُوا قَوْمًا آخَرِينَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالُوا: سَلُوہُ،عَنْ حَدِّ الزَّانِي... وَسَاقَ الْحَدِيثَ. فَقَالَ فِيہِ: قَالَ: وَلَمْ يَكُونُوا مِنْ أَہْلِ دِينِہِ فَيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ،فَخُيِّرَ فِي ذَلِكَ،قَالَ: فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ[المائدة: 42].

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا جو شادی شدہ تھے اور یہ ان دنوں کی بات جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تھے۔اور ان یہودیوں میں تورات کے مطابق (زانیوں پر) رجم فرض تھا ‘ مگر انہوں نے اسے چھوڑ کر انہیں ذلیل و رسوا کرنا اختیار کر لیا تھا کہ اسے تار کول لگی رسی سے سو بار مار جائے اور گدھے پر پچھلی جانب منہ کر کے بٹھایا جائے۔تو ان کے کئی علماء اکٹھے ہوئے اور انہوں نے دوسرے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ آپ ﷺ سے زانی کی حد کے متعلق پوچھیں اور حدیث بیان کی۔اس میں کہا کہ،چونکہ وہ اہل یہود آپ ﷺ کے دین پر نہ تھے کہ آپ ﷺ ان کا فیصلہ کرتے ‘ اس لیے آپ ﷺ کو اس میں اختیار دیا گیا ‘ فرمایا ((فإن جاءوک فاحکم بینہم أو أعرض عنہم)) ’’اگر وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان میں فیصلہ کریں یا اعراض کر جائیں۔‘‘