Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4494 (سنن أبي داود)

[4494] إسنادہ ضعیف

نسائی (4736)

داود عن عکرمۃ منکر

انوار الصحیفہ ص 158

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللہِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَرَأَ فَہَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ الْآيَةَ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریظہ اور نضیر (یہود کے دو قبیلے تھے) اور نضیر قریظہ کی بہ نسبت زیادہ معزز تھا۔تو جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا تھا۔اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے آدمی کو قتل کر دیتا تو (مقتول کے ورثاء کو) ایک سو وسق کھجور دیت دیتا تھا۔پھر جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔تو قریظہ نے کہا: قاتل ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے۔نضیر نے کہا: ہمارے تمہارے درمیان نبی کریم ﷺ قاضی اور حکم ہیں۔تو وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے۔تو یہ آیات نازل ہوئیں ((وإن حکمت فاحکم بینہم بالقسط)) ’’آپ اگر فیصلہ فرمائیں تو ان میں انصاف سے فیصلہ فرمائیں۔‘‘ اس میں ((القسط)) ’’انصاف‘‘ کا مفہوم ’’جان کے بدلے جان‘‘ ہے۔پھر دوسری آیت نازل ہوئی ((أفحکم الجاہلیۃ یبغون)) ’’کیا بھلا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دونوں سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔