Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4495 (سنن أبي داود)

[4495]صحیح

أخرجہ النسائي (4836 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (4065) مشکوۃ المصابیح (3471)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ ہَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ أَشْہَدُ بِہِ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَہِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّہُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْہِ وَقَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی

سیدنا ابورمثہ (رفاعہ بن یثربی) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے ہاں حاضر ہوا۔آپ ﷺ نے میرے والد سے پوچھا ’’یہ تمہارا بیٹا ہے؟‘‘ (والد نے) کہا: ہاں،رب کعبہ کی قسم! آپ نے فرمایا ’’سچ؟‘‘ میرے باپ نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔پھر رسول اللہ ﷺ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا،کیونکہ میری مشابہت میرے باپ میں نمایاں تھی اور باپ نے میرے بارے میں قسم کھائی تھی۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! نہ یہ تیرے کسی قصور میں پکڑا جائے گا اور نہ تو اس کے بدلے میں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ((ولا تزر وازرۃ وزر أخری)) ’’کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“