Sunan Abi Dawood Hadith 4499 (سنن أبي داود)
[4499]صحیح
صحیح مسلم (1680)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِہِ النِّسْعَةُ قَالَ فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَقْتُلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْہَبْ بِہِ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ أَفَتَقْتُلُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْہَبْ بِہِ فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْہُ يَبُوءُ بِإِثْمِہِ وَإِثْمِ صَاحِبِہِ قَالَ فَعَفَا عَنْہُ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُہُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک قاتل لایا گیا اس کی گردن میں چمڑے کی ایک پٹی (بندھی ہوئی) تھی۔آپ ﷺ نے مقتول کے ولی کو بلایا اور اس سے کہا ’’کیا تم معاف کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے پوچھا ’’کیا تم دیت لینا قبول کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا قتل کرو گے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جاؤ اسے لے جاؤ۔‘‘ پس جب اس نے پشت پھیری تو آپ ﷺ نے (پھر) پوچھا ’’کیا معاف کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا دیت لیتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے کہا ’’کیا قتل کرو گے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جاؤ لے جاؤ۔‘‘ پھر چوتھی بار فرمایا ’’اگر تم اس کو معاف کر دو تو یہ اپنے اور اپنے مقتول دونوں کے گناہ اپنے سر لے گا۔‘‘ راوی نے کہا: چنانچہ اس نے اس کو معاف کر دیا۔وائل کہتے ہیں کہ میں نے قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنی پٹی گھسیٹے جا رہا تھا۔