Sunan Abi Dawood Hadith 4502 (سنن أبي داود)
[4502]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (2158 وسندہ صحیح) والنسائي (4024 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (2533 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی ابْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ مَنْ دَخَلَہُ سَمِعَ كَلَامَ مَنْ عَلَی الْبَلَاطِ فَدَخَلَہُ عُثْمَانُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَہُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُہُ فَقَالَ إِنَّہُمْ لَيَتَوَاعَدُونَنِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَہُمُ اللہُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَی ثَلَاثٍ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَوَاللہِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاہِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ ہَدَانِي اللہُ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي قَالَ أَبُو دَاوُد عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا تَرَكَا الْخَمْرَ فِي الْجَاہِلِيَّةِ
جناب ابوامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے جبکہ وہ اپنے گھر میں محصور تھے۔گھر میں ایک ایسی جگہ تھی کہ جو وہاں داخل ہوتا مقام بلاط پر بیٹھے لوگوں کی باتیں سن سکتا تھا۔چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس جگہ میں گئے اور پھر ہمارے پاس واپس آئے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ یہ (بلوائی) اب مجھے قتل کے دینے کی دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ہم نے کہا: امیر المؤمنین! اللہ عزوجل ان کی جانب سے آپ کی کفایت کرے گا۔انہوں نے کہا: یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ’’کسی مسلمان کا خون حلال نہیں،سوائے اس کے کہ اس سے تین باتوں میں سے کوئی ایک صادر ہو: اسلام کے بعد کفر ‘ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا ‘ یا قصاص کے بغیر کسی کو قتل کر دینا۔‘‘ اور اللہ کی قسم! میں نے کبھی زنا نہیں کیا ‘ جاہلیت میں نہ اسلام لانے کے بعد۔اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت نصیب فرمائی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا اس (اسلام) کے بدلے کوئی اور دین ہوتا ‘ اور میں نے کسی کو قتل بھی نہیں کیا ہے ‘ تو پھر یہ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دور جاہلیت ہی سے شراب چھوڑ دی تھی۔