Sunan Abi Dawood Hadith 4501 (سنن أبي داود)
[4501]صحیح
انظر الحدیثین السابقین (4499، 4500)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ بِحَبَشِيٍّ فَقَالَ إِنَّ ہَذَا قَتَلَ ابْنَ أَخِي قَالَ كَيْفَ قَتَلْتَہُ قَالَ ضَرَبْتُ رَأْسَہُ بِالْفَأْسِ وَلَمْ أُرِدْ قَتْلَہُ قَالَ ہَلْ لَكَ مَالٌ تُؤَدِّي دِيَتَہُ قَالَ لَا قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَرْسَلْتُكَ تَسْأَلُ النَّاسَ تَجْمَعُ دِيَتَہُ قَالَ لَا قَالَ فَمَوَالِيكَ يُعْطُونَكَ دِيَتَہُ قَالَ لَا قَالَ لِلرَّجُلِ خُذْہُ فَخَرَجَ بِہِ لِيَقْتُلَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَمَا إِنَّہُ إِنْ قَتَلَہُ كَانَ مِثْلَہُ فَبَلَغَ بِہِ الرَّجُلُ حَيْثُ يَسْمَعُ قَوْلَہُ فَقَالَ ہُوَ ذَا فَمُرْ فِيہِ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ أَرْسِلْہُ وَقَالَ مَرَّةً دَعْہُ يَبُوءُ بِإِثْمِ صَاحِبِہِ وَإِثْمِہِ فَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ قَالَ فَأَرْسَلَہُ
جناب علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو پکڑے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کر ڈالا ہے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’تو نے اس کو کس طرح قتل کیا تھا؟‘‘ اس نے بتایا کہ میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا تھا،لیکن اسے میرا قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تیرے پاس مال ہے کہ تو اس کی دیت دے سکے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا اگر میں تجھے چھوڑ دوں،اور تو لوگوں سے مانگے اور اس کی دیت جمع کر لے (تو کیا ایسے کر سکتا ہے؟)‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تیرے مالک (یا تیری قوم والے) تجھے اس کی دیت دے سکتے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔تو آپ ﷺ نے مقتول کے ولی سے کہا ’’اس کو پکڑ لے۔‘‘ چنانچہ وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے چلا ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! اگر اس نے اس کو قتل کر دیا تو اسی کی مانند ہو جائے گا۔‘‘ تو وہ (مقتول کا ولی) قاتل کو لے کر اس جگہ پہنچ گیا جہاں سے اس نے آپ ﷺ کی بات سنی تھی اور بولا: لیجئیے! یہ رہا اور جو چاہیں اس کے متعلق حکم فرمائیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس کو چھوڑ دو ‘ یہ اپنے اور اپنے مقتول کے گناہ اپنے سر لے کر جہنمیوں میں سے ہو گا۔‘‘ سیدنا وائل نے کہا: چنانچہ اس نے اس کو چھوڑ دیا۔