Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4534 (سنن أبي داود)

[4534] إسنادہ ضعیف

نسائی (4782) ابن ماجہ (2638)

الزہري عنعن

انوار الصحیفہ ص 159

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ أَبَا جَہْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّہُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِہِ فَضَرَبَہُ أَبُو جَہْمٍ فَشَجَّہُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللہِ فَقَالَ ﷺ إِنَّ ہَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْہِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَہَمَّ الْمُہَاجِرُونَ بِہِمْ فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يَكُفُّوا عَنْہُمْ فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاہُمْ فَزَادَہُمْ فَقَالَ أَرَضِيتُمْ فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ کا عامل بنا کر بھیجا۔صدقے (کے حساب) میں ان کا ایک آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا اور زخمی کر دیا۔تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس چلے آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم بدلہ لیں گے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ہم تمہیں اس اس قدر مال دیتے ہیں۔‘‘ مگر وہ راضی نہ ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’چلو اس اس قدر لے لو۔‘‘ وہ راضی نہ ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس اس قدر لے لو۔‘‘ تو وہ راضی ہو گئے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’آج شام میں خطبہ دوں گا اور لوگوں کو بتاؤں گا کہ تم لوگ راضی ہو گئے ہو۔‘‘ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا ’’بنو لیث کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کا مطالبہ لے کر آئے تھے تو میں نے انہیں اس اس قدر مال کی پیش کش کی ہے تو وہ راضی ہو گئے ہیں۔(پھر آپ بنو لیث سے مخاطب ہوئے) کیا تم رضامند ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں۔اس پر مہاجرین بھنا اٹھے۔تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان سے باز رکھا تو وہ رک گئے۔آپ نے ان لوگوں کو پھر بلایا اور مزید مال کی پیشکش کی اور ان سے پوچھا ’’کیا تم راضی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں لوگوں کو خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کا بتاؤں گا۔‘‘ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور (ان سے) پوچھا ’’کیا تم راضی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں (ہم راضی ہیں)۔