Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4535 (سنن أبي داود)

[4535]صحیح

صحیح بخاری (2746) صحیح مسلم (1672)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُہَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ بِكِ ہَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّی سُمِّيَ الْيَہُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَأُخِذَ الْيَہُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُہُ بِالْحِجَارَةِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی جس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔تو اس سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے،کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا (کہ ہاں)۔وہ یہودی پکڑ لیا گیا تو اس نے اقرار کر لیا۔پھر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچلا جائے۔