Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4565 (سنن أبي داود)

[4565]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (3501)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الْعَامِلِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ عَقْلُ شِبْہِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُہُ قَالَ وَزَادَنَا خَلِيلٌ عَنْ ابْنِ رَاشِدٍ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونُ دِمَاءٌ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ

جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’قتل شبہ عمد کی دیت مغلظ (ثقیل اور شدید) ہوتی ہے جیسے کہ قتل عمد کی،مگر اس کا مرتکب قتل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے) کہا کہ خلیل نے ابن راشد سے مزید کہا: ’’وہ (شبہ عمد) یوں ہے کہ شیطان لوگوں میں فساد پیدا کر دے اور بلوے میں کوئی خون ہو جائے (قاتل کو کسی نے دیکھا نہ ہو) اور لڑائی کرنے والوں میں کوئی گہری عداوت بھی نہ ہو اور نہ انہوں نے اسلحہ اٹھایا ہو۔“