Sunan Abi Dawood Hadith 4595 (سنن أبي داود)
[4595]صحیح
صحیح بخاری (2703)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ أُخْتُ أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ ثَنِيَّةَ امْرَأَةٍ فَأَتَوْا النَّبِيَّ ﷺ فَقَضَی بِكِتَابِ اللہِ الْقِصَاصَ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُہَا الْيَوْمَ قَالَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللہِ الْقِصَاصُ فَرَضُوا بِأَرْشٍ أَخَذُوہُ فَعَجِبَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ وَقَالَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہُ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قِيلَ لَہُ كَيْفَ يُقْتَصُّ مِنْ السِّنِّ قَالَ تُبْرَدُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی بہن ربیع (را پر پیش،با پر زبر اور ی مشدد کے نیچے زیر) نے ایک عورت کا دانت توڑ دیا تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے۔پس آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ فرمایا۔انس بن نصر کہنے لگے: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آج اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہے۔‘‘ چنانچہ دوسرے لوگ دیت قبول کر لینے پر راضی ہو گئے (اور بدلہ نہیں لیا) تو نبی کریم ﷺ کو بڑا تعجب ہوا اور فرمایا ’’اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ پوری فرما دیتا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا،ان سے پوچھا گیا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا ’’اسے رگڑ دیا جائے۔‘‘