Sunan Abi Dawood Hadith 4598 (سنن أبي داود)
[4598]صحیح
صحیح بخاری (4547) صحیح مسلم (2665)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ التَّسْتُرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہَذِہِ الْآيَةَ ہُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ إِلَی أُولُو الْأَلْبَابِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّی اللہُ فَاحْذَرُوہُمْ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ((ہو الذی أنزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات *** إلی *** **أولو الألباب)) ’’(اللہ) وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی،جس میں بعض آیتیں محکم (واضح) ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری آیتیں متشابہات (غیر واضح) ہیں،تو جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان میں سے انہی آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ (غیر واضح) ہیں،ان کا مقصد محض فتنے اور تاویل کی تلاش ہوتا ہے،حالانکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ان کی تاویل نہیں جانتا،اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان (متشابہات) پر ایمان ہے،یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں۔’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں،پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہوں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے ((فاحذروہم)) ’’ان سے ڈرتے اور بچتے رہو۔‘‘