Sunan Abi Dawood Hadith 4600 (سنن أبي داود)
[4600]صحیح
صحیح بخاری (4676) صحیح مسلم (2769)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيہِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ قِصَّةَ تَخَلُّفِہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ وَنَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّہَا الثَّلَاثَةَ حَتَّی إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَہُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ فَوَاللہِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِہِ
جناب عبداللہ اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابن سرح نے ان کے غزوۃ تبوک میں نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ جانے کا قصہ بیان کیا،کہا کہ رسول ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے بات چیت سے منع فرما دیا۔حتیٰ کہ جب یہ صورت حال مجھ پر بہت طویل (اور گراں) ہو گئی تو میں نے ابوقتادہ کے باغ کی دیوار چڑھ کر اس سے بات کی،وہ میرے چچا کا بیٹا تھا،میں نے سلام کیا تو اللہ کی قسم! اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔پھر (ابن سرح نے) ان کی توبہ نازل ہونے کی خبر بیان کی۔