Sunan Abi Dawood Hadith 4604 (سنن أبي داود)
[4604]إسنادہ صحیح
تقدم طرفہ (3804) مشکوۃ المصابیح (163)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَةَ،حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ،عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ, أَنَّہُ قَالَ: أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ،أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَی أَرِيكَتِہِ،يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِہَذَا الْقُرْآنِ! فَمَا وَجَدْتُمْ فِيہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوہُ! وَمَا وَجَدْتُمْ فِيہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوہُ! أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَہْلِيِّ،وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ،وَلَا لُقَطَةُ مُعَاہِدٍ, إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْہَا صَاحِبُہَا،وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْہِمْ أَنْ يَقْرُوہُ،فَإِنْ لَمْ يَقْرُوہُ, فَلَہُ أَنْ يُعْقِبَہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُ.
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔عنقریب ایسے ہو گا کہ ایک پیٹ بھرا (آسودہ حال) آدمی اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا کہے گا کہ اسی قرآن کو اختیار کر لو،جو اس میں حلال ہے اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو۔خبردار! تمہارے لیے پالتو گدھے،نیش دار درندے اور کسی ذمی (کافر) کا گرا پڑا مال اٹھا لینا حلال نہیں،الا یہ کہ اس کا مالک اس سے بے پروا ہو۔اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے تو ان پر واجب ہے کہ اس کی مہمانی کریں،اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اسے حق حاصل ہے کہ اپنی مہمانی کے مثل ان سے بذریعہ طاقت حاصل کر لے۔‘‘