Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4611 (سنن أبي داود)

[4611]إسنادہ صحیح

أخرجہ الحاکم (3/ 270) وصححہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبی

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَوْہَبٍ الْہَمْدَانِيُّ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ عَائِذَ اللہِ أَخْبَرَہُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عُمَيْرَةَ-وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ-أَخْبَرَہُ،قَالَ: كَانَ لَا يَجْلِسُ مَجْلِسًا لِلذِّكْرِ حِينَ يَجْلِسُ, إِلَّا قَالَ: اللہُ حَكَمٌ،قِسْطٌ،ہَلَكَ الْمُرْتَابُونَ،فَقَالَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا, يَكْثُرُ فِيہَا الْمَالُ،وَيُفْتَحُ فِيہَا الْقُرْآنُ،حَتَّی يَأْخُذَہُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ،وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ،وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ،وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ،فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ: مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي, وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ؟ مَا ہُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّی أَبْتَدِعَ لَہُمْ غَيْرَہُ! فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ, فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ،وَأُحَذِّرُكُمْ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ, فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ عَلَی لِسَانِ الْحَكِيمِ،وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ،قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: مَا يُدْرِينِي-رَحِمَكَ اللہُ-أَنَّ الْحَكِيمَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ،وَأَنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ؟ قَالَ: بَلَی, اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَہِرَاتِ الَّتِي يُقَالُ: لَہَا مَا ہَذِہِ؟! وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْہُ،فَإِنَّہُ لَعَلَّہُ أَنْ يُرَاجِعَ،وَتَلَقَّ الْحَقَّ إِذَا سَمِعْتَہُ،فَإِنَّ عَلَی الْحَقِّ نُورًا. قَالَ أَبو دَاود: قَالَ مَعْمَرٌ: عَنِ الزُّہْرِيِّ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْہُ, مَكَانَ: يُثْنِيَنَّكَ. و قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّہْرِيِّ فِي ہَذَا الْمُشَبِّہَاتِ. مَكَانَ الْمُشْتَہِرَاتِ وَقَالَ: لَا يُثْنِيَنَّكَ كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ: وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَنِ الزُّہْرِيِّ, قَالَ: بَلَی مَا تَشَابَہَ عَلَيْكَ مِنْ قَوْلِ الْحَكِيمِ حَتَّی تَقُولَ: مَا أَرَادَ بِہَذِہِ الْكَلِمَةِ؟!

یزید بن عمیرہ سیدنا معاذ بن جبل کے ساتھیوں میں سے تھے۔انہوں نے بتایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے: اللہ عزوجل خوب عادل اور فیصلہ کرنے والا ہے،شک کرنے والے ہلاک ہو گئے۔سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دین کہا: تمہارے بعد بڑے فتنے ہوں گے۔مال بہت بڑھ جائے گا اور قرآن کھول (عام کر) دیا جائے گا حتیٰ کہ مومن،منافق،مرد،عورتیں،چھوٹا،بڑا،غلام اور آزاد سبھی اسے حاصل کریں گے اور ایسا ہو گا کہ کہنے والا کہے گا: لوگوں کو کیا ہوا میری پیروی نہیں کرتے،حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے؟ (وہ کہے گا) یہ لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے حتیٰ کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی اختراع کروں۔چنانچہ تم اپنے آپ کو اس کی بدعت سے بچائے رکھنا،اس کی بدعت ضلالت اور گمراہی ہو گی۔اور میں تمہیں دانا بندے کی ٹھوکر سے بھی ڈراتا ہوں۔شیطان کبھی دانا بندے کی زبان سے گمراہی کا کوئی کلمہ نکلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی حق بات کہہ دیتا ہے۔(یزید کہتے ہیں) میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! مجھے کیسے معلوم ہو کہ دانا آدمی گمراہی کا کلمہ کہہ جاتا ہے اور منافق حق کی بات کہہ دیتا ہے؟ کہا کہ ہاں۔دانا کی ایسی باتوں سے بچنا جو مشہور ہو جاتی ہیں،جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ مگر یہ بات تمہارا اس سے رخ موڑ لینے کا باعث نہ بنے،ایسا (بھی تو) ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے رجوع کر لے،اور حق جس کسی سے بھی سنو قبول کر لو،بلاشبہ حق پر نور ہوتا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معمر نے بواسطہ زہری اس روایت میں ((یثنینک)) کی بجائے ((ولا ینئینک)) ’’یہ بات تجھے اس سے بے رخ نہ بنا دے۔‘‘ کے لفظ روایت کیے ہیں۔صالح بن کیسان نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ((مشتہرات)) کی بجائے ((المشبہات)) کا لفظ روایت کیا اور ایسے ہی ((لا یثنینک)) کا لفظ روایت کیا جیسے کہ عقیل نے روایت کیا ہے۔ابن اسحاق نے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا: ہاں دانا کی جو بات تمہارے لیے شبہے کا باعث ہو حتیٰ کہ تم کہنے لگو نامعلوم اس نے اس کلمہ سے کیا مراد لیا ہے؟

قال معاذ علی زئی: أخرجہ یعقوب بن سفیان الفارسی فی المعرفۃ والتاریخ (2/ 321) وسندہ صحیح