Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4632 (سنن أبي داود)

[4632]صحیح

صحیح بخاری (7046) صحیح مسلم (2269)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ, قَالَ مُحَمَّدٌ: كَتَبْتُہُ مِنْ كِتَابِہِ, قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: كَانَ أَبُو ہُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ, أَنَّ رَجُلًا أَتَی إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْہَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ،فَأَرَی النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيہِمْ, فَالْمُسْتَكْثِرُ،وَالْمُسْتَقِلُّ،وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَی الْأَرْضِ،فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللہِ! أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ بِہِ،ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِہِ،ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِہِ،ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ،ثُمَّ وُصِلَ فَعَلَا بِہِ،قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلَأُعَبِّرَنَّہَا! فَقَالَ: اعْبُرْہَا،قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ،وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ, فَہُوَ الْقُرْآنُ لِينُہُ وَحَلَاوَتُہُ،وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ،فَہُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْہُ،وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَی الْأَرْضِ, فَہُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْہِ تَأْخُذُ بِہِ،فَيُعْلِيكَ اللہُ،ثُمَّ يَأْخُذُ بِہِ بَعْدَكَ رَجُلٌ فَيَعْلُو،بِہِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِہِ،ثُمَّ يَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ،ثُمَّ يُوصَلُ لَہُ فَيَعْلُو بِہِ, أَيْ رَسُولَ اللہِ! لَتُحَدِّثَنِّي: أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا،فَقَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللہِ! لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تُقْسِمْ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ ایک بادل سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے۔میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے تھے ‘ تو کچھ نے ان سے خوب خوب لیا اور کچھ نے کم لیا۔اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے،اے اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا ہے اور اوپر چڑھ گئے ہیں۔پھر ایک دوسرے آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔پھر جوڑ دی گئی تو وہ اوپر چڑھ گیا۔پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی تعبیر عرض کروں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کی تعبیر بیان کرو۔‘‘ تو انہوں نے کہا: وہ بادل ‘ اسلام کا سایہ ہے اور اس سے ٹپکنے والا گھی اور شہد،قرآن کی ملائمت اور شیرینی ہے۔زیادہ یا کم لینے والے،تو وہ وہی ہیں جو قرآن سے اپنا حصہ زیادہ لے رہے ہیں یا کم۔اور آسمان سے لٹکنے والی رسی،وہی حق ہے جس پر آپ ﷺ ہیں۔آپ نے اسے پکڑا ہے تو اللہ آپ کو بلند فرمائے گا۔پھر آپ کے بعد ایک آدمی پکڑے گا اور اس کے ذریعے سے اوپر چڑھ جائے گا۔اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا تو وہ بھی اوپر چڑھ جائے گا۔پھر تیسرا آدمی پکڑے گا تو وہ ٹوٹ جائے گی،پھر اسے اس کی خاطر جوڑ دیا جائے گا۔تو پھر وہ اوپر چڑھ جائے گا۔اے اللہ کے رسول! مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے درست کہا: ہے یا غلط؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم نے کچھ درست کہا ہے اور کچھ میں غلطی کی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’قسم مت دو۔‘‘