Sunan Abi Dawood Hadith 4648 (سنن أبي داود)
[4648]حسن✷
أخرجہ الترمذي (3757 وسندہ صحیح) ولہ شاھد انظر الحدیث الآتي (4650)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ،أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ وَسُفْيَانُ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَہُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ،قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ،قَالَ: لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ إِلَی الْكُوفَةِ،أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا،فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ،فَقَالَ: أَلَا تَرَی إِلَی ہَذَا الظَّالِمِ،فَأَشْہَدُ عَلَی التِّسْعَةِ إِنَّہُمْ فِي الْجَنَّةِ،وَلَوْ شَہِدْتُ عَلَی الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ!-. قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ, وَالْعَرَبُ: تَقُولُ: آثَمُ-،قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ-وَہُوَ عَلَی حِرَاءٍ: اثْبُتْ حِرَاءُ! إِنَّہُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَہِيدٌ،قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللہِ ﷺ،َأَبُو بَكْرٍ،وَعُمَرُ،وَعُثْمَانُ،وَعَلِيٌّ،وَطَلْحَةُ،وَالزُّبَيْرُ،وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ ہُنَيَّةً،ثُمَّ قَالَ: أَنَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاہُ الْأَشْجَعِيُّ،عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ ابْنِ حَيَّانَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ.
جناب عبداللہ بن ظالم مازنی سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا،انہوں نے کہا: جب فلاں کوفے میں آیا اور اس نے فلاں کو خطبے میں کھڑا کیا (عبداللہ نے کہا) تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ دبائے اور کہا: کیا تم اس ظالم (خطیب) کو نہیں دیکھتے ہو،(غالباً وہ خطیب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا۔) میں نو افراد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں،اگر دسویں کے بارے میں کہوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔ابن ادریس نے کہا عرب لوگ ((آثم)) کا لفظ بولتے ہیں (جبکہ سیدنا سعید نے ((لم إیثم)))۔عبداللہ کہتے ہیں،میں نے پوچھا: وہ نو افراد کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبکہ آپ ﷺ حراء پر کھڑے ہوئے تھے: ’’اے حراء ٹھر جا! تجھ پر سوائے نبی کے یا صدیق کے یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ نو کون کون ہیں؟ کہا: رسول ﷺ،ابوبکر،عمر،عثمان،علی،طلحہ،زبیر،سعد بن ابی وقاص،(مالک) اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم۔میں نے پوچھا اور دسواں کون ہے؟ تو وہ لمحے بھر کے لیے ٹھٹھکے پھر کہا میں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اشجعی نے سفیان سے،انہوں نے منصور سے،انہوں نے ہلال بن یساف سے،انہوں نے ابن حیان سے،انہوں نے عبداللہ بن ظالم سے اسی کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا ہے۔
✷قال معاذ علي زئي: قال النسائي: ’’ہلال بن يساف لم يسمعہ من عبد اللہ بن ظالم‘‘ (الکبری: 7/ 326 ح 8135،8148) وقال الدارقطني: ’’وقد بين في روايتہ عن ہلال أنہ لم يسمعہ من ابن ظالم،وأن بينہما رجلا‘‘ (العلل: 4/ 412) والحدیث الآتي (4650) یغني عنہ