Sunan Abi Dawood Hadith 4657 (سنن أبي داود)
[4657]صحیح
صحیح مسلم (2535)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،قَالَ:،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی،عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيہِمْ،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَہُمْ،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَہُمْ-وَاللہُ أَعْلَمُ, أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا-،ثُمَّ يَظْہَرُ قَوْمٌ يَشْہَدُونَ وَلَا يُسْتَشْہَدُونَ،وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ،وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ،وَيَفْشُو فِيہِمُ السِّمَنُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میری امت کا بہترین زمانہ یہی ہے جس میں میں مبعوث کیا گیا ہوں،پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے،اور پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے۔واللہ اعلم آپ نے یہ تیسری بار فرمایا کہ نہیں،پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہیاں دیں گے حالانکہ ان سے گواہی مانگی نہ گئی ہو گی،نذریں مانیں گے مگر پوری نہیں کریں گے۔خیانتیں کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور ان میں موٹاپا بھی عام ہو گا۔‘‘