Sunan Abi Dawood Hadith 4661 (سنن أبي داود)
[4661]حسن
انظر الحدیث السابق (6660)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ زَمْعَةَ... أَخْبَرَہُ بِہَذَا الْخَبَرِ،قَالَ: لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ صَوْتَ عُمَرَ-قَالَ ابْنُ زَمْعَةَ:-, خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّی أَطْلَعَ رَأْسَہُ مِنْ حُجْرَتِہِ،ثُمَّ قَالَ: لَا،لَا،لَا, لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ.-يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا
جناب عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے یہ خبر بیان کی کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ ﷺ تشریف لائے،اپنا سر مبارک حجرے سے نکالا اور فرمایا ’’نہیں۔نہیں۔نہیں۔ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات ناراضی کی کیفیت میں فرمائی۔