Sunan Abi Dawood Hadith 4683 (سنن أبي داود)
[4683]صحیح
صحیح بخاری (27) صحیح مسلم (150)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ،عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي الزُّہْرِيُّ،عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: أَعْطَی رَسُولُ اللہِ ﷺ رِجَالًا،وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْہُمْ شَيْئًا،فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا! وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَہُوَ مُؤْمِنٌ! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَوْ مُسْلِمٌ؟،حَتَّی أَعَادَہَا سَعْدٌ ثَلَاثًا،وَالنَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: أَوْ مُسْلِمٌ؟!،ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا،وَأَدَعُ مَنْ ہُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْہُمْ لَا أُعْطِيہِ شَيْئًا, مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَی وُجُوہِہِمْ
جناب عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک بار) نبی کریم ﷺ نے بعض لوگوں کو کچھ عنایت فرمایا اور ایک آدمی کو کچھ نہ دیا۔تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اﷲ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو عنایت فرمایا ہے اور فلاں کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’یا مسلم ہے۔‘‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بات تین بار کہی اور نبی کریم ﷺ یا مسلم ہے ‘ مسلم ہے فرماتے رہے اور پھر کہا ’’میں بعض آدمیوں کو دیتا ہوں اور بعض کو چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ وہ مجھے ان کی نسبت زیادہ محبوب ہوتے ہیں اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اپنے مونہوں کے بل آگ میں نہ ڈال دیے جائیں۔‘‘