Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4723 (سنن أبي داود)

[4723] إسنادہ ضعیف

ترمذی (3320) ابن ماجہ (193)

سماک بن حرب اختلط کما تقدم بالإشارۃ (2238) ولا نعرف تحدیثہ بہ قبل اختلاطہ

وعبد اللہ بن عمیرۃ لا یعرف لہ سماع من الأحنف کما قال البخاري رحمہ اﷲ (التاریخ الکبیر 159/5)

انوار الصحیفہ ص 165

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ،عَنْ سِمَاكٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيہِمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَمَرَّتْ بِہِمْ سَحَابَةٌ،فَنَظَرَ إِلَيْہَا،فَقَالَ: مَا تُسَمُّونَ ہَذِہِ؟!،قَالُوا: السَّحَابَ،قَالَ: وَالْمُزْنَ؟ قَالُوا: وَالْمُزْنَ،قَالَ: وَالْعَنَانَ؟ قَالُوا: وَالْعَنَانَ.-قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ أُتْقِنِ الْعَنَانَ جَيِّدًا،قَالَ:-ہَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟،قَالُوا: لَا نَدْرِي! قَالَ: إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَہُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ أَوِ اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً،ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَہَا كَذَلِكَ-حَتَّی عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ-،ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِہِ وَأَعْلَاہُ, مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَی سَمَاءٍ،ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ, بَيْنَ أَظْلَافِہِمْ وَرُكَبِہِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَی سَمَاءٍ،ثُمَّ عَلَی ظُہُورِہِمُ الْعَرْشُ،مَا بَيْنَ أَسْفَلِہِ وَأَعْلَاہُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَی سَمَاءٍ،ثُمَّ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی فَوْقَ ذَلِكَ.

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے،وہاں سے بادل کا ایک ٹکڑا گزرا۔آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’تم لوگ اسے کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ((سحاب)) آپ ﷺ نے فرمایا ’’اور ((مزن)) بھی؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں ((مزن)) بھی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اور ((عنان)) بھی کہتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں ((عنان)) بھی کہتے ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے ((العنان)) کا ذکر کوئی زیادہ اچھی طرح یاد نہیں ہے،آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا جانتے ہو آسمان اور زمین میں کتنا فاصلہ ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا فاصلہ ہے۔پھر اس کے بعد دوسرے آسمان کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہے۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے سات آسمان شمار کیے۔پھر فرمایا ’’ساتویں کے اوپر سمندر ہے جس کی گہرائی اور اونچائی اس قدر ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک،پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک،پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے،جس کی تہہ اور اونچائی میں اتنا ہی فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۔پھر اس سے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔“