Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4726 (سنن أبي داود)

[4726] إسنادہ ضعیف

ابن إسحاق عنعن

وجبیر بن محمد: مقبول (تقریب: 902) أي مجہول الحال ولم یوثقہ غیر ابن حبان

قال معاذ علي زئي:

جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم صدوق،وثقہ ابن حبان وابن خزیمۃ وأبو عوانۃ والحاکم والذھبي بتصحیح حدیثہ.

لکن قال البیھقي في محمد بن إسحاق بن یسار: ’’فإذا روی عن ثقة وبين سماعہ منہم فجماعة من الأئمة لم يروا بہ بأسا،وہو إنما روی ہذا الحديث عن يعقوب بن عتبة،وبعضہم يقول عنہ وعن جبير بن محمد بن جبير،ولم يبين سماعہ منہما‘‘ (الأسماء والصفات: 2/ 317 ح 884)

فالحديث ضعيف لعنعنة محمد بن إسحاق.

انوار الصحیفہ ص 165

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ،قَالُوا: حَدَّثَنَا وَہْبُ ابْنُ جَرِيرٍ, قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاہُ مِنْ نُسْخَتِہِ وَہَذَا لَفْظُہُ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي،قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ،عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ, قَالَ: أَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ أَعْرَابِيٌّ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! جُہِدَتِ الْأَنْفُسُ،وَضَاعَتِ الْعِيَالُ،وَنُہِكَتِ الْأَمْوَالُ،وَہَلَكَتِ الْأَنْعَامُ،فَاسْتَسْقِ اللہَ لَنَا, فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَی اللہِ،وَنَسْتَشْفِعُ بِاللہِ عَلَيْكَ! قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَيْحَكَ،أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟!،وَسَبَّحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّی عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوہِ أَصْحَابِہِ،ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ إِنَّہُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللہِ عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِہِ, شَأْنُ اللہِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ،وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللہُ؟ إِنَّ عَرْشَہُ عَلَی سَمَاوَاتِہِ لَہَكَذَا-وَقَالَ بِأَصَابِعِہِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْہِ-،وَإِنَّہُ لَيَئِطُّ بِہِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ. قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِہِ إِنَّ اللہَ فَوْقَ عَرْشِہِ وَعَرْشُہُ فَوْقَ سَمَاوَاتِہِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وقَالَ: عَبْدُ الْأَعْلَی وَابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ،عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ ہُوَ الصَّحِيحُ وَافَقَہُ عَلَيْہِ جَمَاعَةٌ مِنْہُمْ يَحْيَی ابْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاہُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَابْنِ الْمُثَنَّی وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي.

جناب جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد محمد سے وہ اپنے دادا جبیر بن مطعم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا۔اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جانوں پہ بن آئی ہے ‘ بال بچے ہلاک ہو رہے ہیں ‘ مال ختم ہو گئے ہیں ‘ اور مویشی مر رہے ہیں ‘ اللہ سے ہمارے لیے بارش طلب کیجئیے۔ہم اللہ کے حضور آپ کی سفارش پیش کرتے ہیں اور اللہ کو آپ کے حضور سفارشی لاتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’افسوس تجھ پر! کیا جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اور رسول اللہ ﷺ مسلسل تسبیح (سبحان اللہ) کہتے رہے حتیٰ کہ اس (خوف کے اثر) کو آپ ﷺ کے صحابہ کرام کے چہروں پر محسوس کیا گیا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’افسوس تجھ پر! اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے ہاں سفارشی پیش نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں زیادہ با عظمت (اور برتر) ہے۔افسوس تجھ پر! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کیا شان ہے؟ بلاشبہ اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے قبے کی سی شکل بنائی۔اور فرمایا ’’وہ عرش اس طرح سے چرچرا رہا ہے جیسے پالان اپنے سوار کے ساتھ چرچراتا ہے۔‘‘ ابن بشار نے اپنی روایت میں کہا: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے اوپر ہے۔اور اس کا عرش اس کے آسمانوں سے اوپر ہے۔‘‘ بواسطہ یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر ‘ اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے روایت کی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور حدیث احمد بن سعید کی سند سے ہی صحیح ہے۔اور جماعت محدثین نے اس کی موافقت کی ہے جن میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی ہیں۔اور ایک جماعت نے ابن اسحاق سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے احمد نے کہا: اور جیسے کہ مجھے روایت پہنچی ہے عبدالاعلیٰ ‘ ابن مثنیٰ اور ابن بشار کا سماع ایک ہی نسخے سے ہے۔