Sunan Abi Dawood Hadith 4756 (سنن أبي داود)
[4756]حسن
أخرجہ الترمذي (2234 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (5486)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِيقٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُرَاقَةَ،عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ،قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: إِنَّہُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَہُ،وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوہُ. فَوَصَفَہُ لَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ،وَقَالَ: لَعَلَّہُ سَيُدْرِكُہُ مَنْ قَدْ رَآنِي وَسَمِعَ كَلَامِي!،قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُہَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: أَوْ خَيْرٌ.
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ’’تحقیق نوح علیہ السلام کے بعد جو بھی نبی آیا اس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی علامات بیان فرمائیں اور کہا ’’ممکن ہے کہ اسے وہ آدمی پا لے جس نے مجھے دیکھا ہے اور میری باتیں سنی ہیں۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا بھلا ایسے ہی ہوں گے جیسے آج ہیں؟ فرمایا ’’یا اس سے بہتر۔‘‘