Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4757 (سنن أبي داود)

[4757]صحیح

صحیح بخاری (3055) صحیح مسلم (2930)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَالِمٍ،عَنْ أَبِيہِ, قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ ﷺ فِي النَّاسِ،فَأَثْنَی عَلَی اللہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ،فَذَكَرَ الدَّجَّالَ،فَقَالَ: إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوہُ،وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَہُ قَوْمَہُ, لَقَدْ أَنْذَرَہُ نُوحٌ قَوْمَہُ, وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيہِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْہُ نَبِيٌّ لِقَوْمِہِ: تَعْلَمُونَ أَنَّہُ أَعْوَرُ،وَأَنَّ اللہَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ.

جناب سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے۔پھر آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا ’’میں تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں اور جو بھی نبی آیا ہے اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے ‘ یقیناً نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا،لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات کہہ رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔تم جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ عزوجل قطعاً کانا نہیں ہے۔‘‘