Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4760 (سنن أبي داود)

[4760]صحیح

صحیح مسلم (1854)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُعَلَّی بْنِ زِيَادٍ وَہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْہُمْ وَتُنْكِرُونَ،فَمَنْ أَنْكَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ہِشَامٌ بِلِسَانِہِ: فَقَدْ بَرِئَ،وَمَنْ كَرِہَ بِقَلْبِہِ, فَقَدْ سَلِمَ،وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَفَلَا نَقْتُلُہُمْ؟ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ أَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟-قَالَ: لَا, مَا صَلَّوْا.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم پر ایسے امام (امیر) مقرر ہوں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں بھلی لگیں گی اور کچھ بری بھی جانو گے۔تو جس نے انکار کیا،بالفاظ ہشام،اپنی زبان سے انکار کیا ‘ تو وہ بری ہوا ‘ اور جس نے دل سے انکار کیا وہ محفوظ رہا ‘ لیکن جو راضی رہا اور ان کا متبع بنا۔‘‘ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! تو کیا ہم ان کو قتل نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں ‘ جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ((أفلا نقاتلہم؟)) کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟