Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4774 (سنن أبي داود)

[4774]إسنادہ صحیح

وأصلہ عند البخاري (6038) ومسلم (2309)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ،عَنْ ثَابِتٍ،عَنْ أَنَسٍ،قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ،لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَہِي صَاحِبِي أَنْ أَكُونَ عَلَيْہِ،مَا قَالَ لِي فِيہَا: أُفٍّ قَطُّ،وَمَا قَالَ لِي: لِمَ فَعَلْتَ ہَذَا؟ أَوْ: أَلَّا فَعَلْتَ ہَذَا؟!.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہمیں نے نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ میں دس سال تک خدمت کی جبکہ میں ایک نوخیز لڑکا تھا۔میرے سب کام اس معیار کے نہیں ہوتے تھے جیسے میرے حبیب ﷺ کی خواہش ہوتی تھی۔(اس کے باوجود) آپ ﷺ نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا اور نہ یوں کہا: تو نے یہ کیوں کیا؟ اور اس طرح کیوں نہیں کیا؟