Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4773 (سنن أبي داود)

[4773]صحیح

صحیح مسلم (2310)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ،حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،قَالَ: قَالَ أَنَسٌ،كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا،فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ،فَقُلْتُ: وَاللہِ لَا أَذْہَبُ! وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْہَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِہِ نَبِيُّ اللہِ ﷺ،قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّی أَمُرَّ عَلَی صِبْيَانٍ وَہُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ،فَإِذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قَابِضٌ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي،فَنَظَرْتُ إِلَيْہِ وَہُوَ يَضْحَكُ،فَقَالَ: يَا أُنَيْسُ! اذْہَبْ حَيْثُ أَمَرْتُكَ. قُلْتُ: نَعَمْ, أَنَا أَذْہَبُ يَا رَسُولَ اللہِ،قَالَ أَنَسٌ: وَاللہِ لَقَدْ خَدَمْتُہُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ،مَا عَلِمْتُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُ: ہَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے سب بڑھ کر عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔آپ ﷺ نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا ‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا ‘ حالانکہ میرے دل میں تھا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے جو بھی فرمایا ہے میں اس کے لیے جاؤں گا۔کہتے ہیں: پس میں نکلا حتیٰ کہ بچوں کے پاس سے میرا گزر ہوا جو بازار میں کھیل رہے تھے۔تو اچانک (کیا دیکھتا ہوں کہ) رسول اللہ ﷺ مجھے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑے ہوئے تھے۔میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے۔فرمایا ’’انیس! ادھر جاؤ جہاں کا میں نے تمہیں کہا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ہاں اے اللہ کے رسول! جا رہا ہوں۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے سات سال آپ ﷺ کی خدمت کی ہے یا نو سال،مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے مجھے کسی کام پر جو میں نے کیا ہو،کبھی یوں کہا ہو: ’’تو نے ایسے کیوں کیا؟‘‘ یا کوئی کام جو میں نے چھوڑ دیا ہو،تو کہا ہو کہ ’’ایسے ایسے کیوں نہیں کیا؟‘‘