Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4829 (سنن أبي داود)

[4829]صحیح

انظر الحدیث الآتي (4830)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا أَبَانُ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَنَسٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ, رِيحُہَا طَيِّبٌ،وَطَعْمُہَا طَيِّبٌ،وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،كَمَثَلِ التَّمْرَةِ, طَعْمُہَا طَيِّبٌ،وَلَا رِيحَ لَہَا،وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ, رِيحُہَا طَيِّبٌ وَطَعْمُہَا مُرٌّ،وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ, طَعْمُہَا مَرٌّ وَلَا رِيحَ لَہَا،وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ،كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ،إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْہُ شَيْءٌ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِہِ،وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ،كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ،إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ سَوَادِہِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِہِ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مومن جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ اس کی خوشبو عمدہ اور وہ خوش ذائقہ بھی ہوتا ہے۔اور مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں ہوتی۔اور فاجر آدمی جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان (نازبو) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو عمدہ مگر ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔اور فاجر آدمی جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل (اندرائن۔کوڑتمہ) کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ کڑوا اور خوشبو کوئی نہیں ہوتی۔اور نیک صالح ساتھی کی مثال کستوری والے کے مانند ہے اگر تجھے اس سے نہ بھی ملی تو اس کی خوشبو تو (ضرور) پہنچے گی اور برے ساتھی کی مثال بھٹی والے کی طرح ہے ‘ اگر تجھے اس کی کالک نہ لگی تو دھواں تو ضرور آئے گا۔