Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4857 (سنن أبي داود)

[4857]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي ہِلَالٍ حَدَّثَہُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَہُ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،أَنَّہُ قَالَ: كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِہِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِہِ عِنْدَ قِيَامِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ, إِلَّا كُفِّرَ بِہِنَّ عَنْہُ،وَلَا يَقُولُہُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ, إِلَّا خُتِمَ لَہُ بِہِنَّ عَلَيْہِ،كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَی الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللہُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا چند کلمات ہیں جو کوئی انہیں اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے تین بار پڑھ لے تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے ‘ اور جو کوئی انہیں اپنی اس مجلس کے دوران میں پڑھ لے ‘ وہ مجلس خیر کی ہو یا ذکر کی تو یہ اس کے لیے ایسے ہوں گے جیسے کسی تحریر کو مہر بند کر دیا گیا ہو (اس کے لیے اس کا اجر اور گناہوں کا کفارہ ہونا محفوظ ہو گا۔وہ کلمات یہ ہیں) ((سبحانک اللہم وبحمدک لا إلہ إلا أنت أستغفرک وأتوب إلیک)) ’’اے اﷲ! تو اپنی تعریفوں سمیت پاک ہے ‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور میں تیری ہی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔‘‘

قال معاذ علي زئي: سعید بن أبي ھلال: قال أحمد بن حنبل: ’’يخلط في الأحاديث‘‘ (سؤالات الأثرم: 69) لکن قال أبو داود: ’’سمعت أحمد يقول: سعيد بن أبي ہلال سمعوا منہ بمصر القدماء ...‘‘ إلخ (سؤالات أبي داود: 254) فثبت أن روایۃ المصریین عنہ قبل تغیرہ،وروی مسلم في صحیحہ من طریق عمرو بن الحارث المصري عن سعید بن أبي ھلال،وصحح ھذا الطریق جماعۃ کابن خزیمۃ والترمذي وأبي عوانۃ وابن حبان والحاکم والضیاء المقدسي والذھبي،فثبت أن سماع عمرو بن الحارث المصري منہ قبل تغیرہ. وقال ابن طلعت من المعاصرین: ’’قلت: وقول أحمد ’’يخلط في الأحاديث‘‘ يعني أنہ يخطيء في الأحاديث،ولا يقصد أحمد وصفہ بالاختلاط الاصطلاحي،فلا ينبغي التفريق بين حديث سعيد بن أبي ہلال الذي حدث بہ في أول عمرہ وحديثہ الذی حدث بہ في آخر عمرہ،واللہ أعلم‘‘ (معجم المختلطین: ص 143) وقولہ مرجوح ورکیک.