Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4904 (سنن أبي داود)

[4904] إسنادہ ضعیف

سعید بن عبد الرحمٰن بن أبی العمیاء مقبول (تقریب: 2353) أي مجہول الحال،وثقہ ابن حبان وحدہ

ولبعض الحدیث شاہد حسن عند البخاري فی التاریخ الکبیر (97/4)

قال معاذ علي زئي:

سعید بن عبد الرحمن بن ابی العمیائ: ذکرہ ابن حبان فی الثقات (6/ 354) وصحح لہ ضیاء المقدسي فی المختارۃ (6/ 173 ح 2178) وقال ابن بشكوال: ’’شيخ لا بأس بہ‘‘ (شيوخ ابن وہب رقم 210 ص 228) وقال الھیثمي: ’’رواہ أبو يعلی،ورجالہ رجال الصحيح غير ‌سعيد ‌بن ‌عبد ‌الرحمن بن أبي ‌العمياء،وہو ثقة‘‘ (٘مجمع الزوائد: 10546) فھو صدوق حسن الحدیث،فالسند حسن. والحمد للہ. وقال البوصیري في حدیثہ: ’’ہذا إسناد صحيح‘‘ (إتحاف الخیرۃ المھرۃ: 3520) وقال محمد بن مفلح الحنبلي في حدیثہ: ’’إسناد جيد‘‘ (الآداب الشرعیۃ: 2/ 95)

انوار الصحیفہ ص 171

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ أَنَّ سَہْلَ ابْنَ أَبِي أُمَامَةَ, حَدَّثَہُ أَنَّہُ دَخَلَ ہُوَ وَأَبُوہُ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ-فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ-وَہُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ،فَإِذَا ہُوَ يُصَلِّي صَلَاةً خَفِيفَةً دَقِيقَةً،كَأَنَّہَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ،أَوْ قَرِيبًا مِنْہَا،فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أَبِي: يَرْحَمُكَ اللہُ،أَرَأَيْتَ ہَذِہِ الصَّلَاةَ: الْمَكْتُوبَةَ أَوْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَہُ؟ قَالَ: إِنَّہَا الْمَكْتُوبَةُ،وَإِنَّہَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ, مَا أَخْطَأْتُ إِلَّا شَيْئًا سَہَوْتُ عَنْہُ! فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَقُولُ: لَا تُشَدِّدُوا عَلَی أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ, فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ فَشَدَّدَ اللہُ عَلَيْہِمْ،فَتِلْكَ بَقَايَاہُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ, وَرَہْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوہَا مَا كَتَبْنَاہَا عَلَيْہِمْ[الحديد: 27]. ثُمَّ غَدَا مِنَ الْغَدِ،فَقَالَ: أَلَا تَرْكَبُ لِتَنْظُرَ وَلِتَعْتَبِرَ؟!،قَالَ: نَعَمْ،فَرَكِبُوا جَمِيعًا،فَإِذَا ہُمْ بِدِيَار-ٍ بَادَ أَہْلُہَا،وَانْقَضَوْا،وَفَنُوا-خَاوِيَةٍ عَلَی عُرُوشِہَا،فَقَالَ: أَتَعْرِفُ ہَذِہِ الدِّيَارَ؟،فَقُلْتُ: مَا أَعْرَفَنِي بِہَا وَبِأَہْلِہَا, ہَذِہِ دِيَارُ قَوْمٍ أَہْلَكَہُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ, إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ،وَالْبَغْيُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُہُ،وَالْعَيْنُ تَزْنِي،وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْجَسَدُ وَاللِّسَانُ وَالْفَرْجُ, يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُہُ.

جناب سہل بن ابوامامہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا والد مدینہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور کی بات ہے،جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے۔ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچے تو وہ بڑی ہلکی پھلکی نماز پڑھ رہے تھے،گویا کہ مسافر کی نماز ہو یا اس کے قریب۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے پوچھا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! یہ بتائیں کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ نے کوئی نفل پڑھے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی اور رسول اللہ ﷺ کی نماز ایسے ہی ہوتی تھی۔میں نے اس میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے اس کے جو کوئی میں بھول گیا ہوں (تو وہ الگ بات ہے)۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے ’’اپنی جانوں پر سختی مت کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی۔بلاشبہ کئی قوموں نے اپنی جانوں پر سختیاں کیں تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔جنگلوں میں معبدوں کے اندر اور گرجا گھروں میں انہی لوگوں کے بقایا لوگ ہیں (جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے)۔ان لوگوں نے رہبانیت اختیار کر لی،انہوں نے یہ بدعت نکالی،ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔‘‘ (الحدید 27) پھر ہم اگلے دن صبح کے وقت ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: کیا تم سوار نہیں ہو جاتے کہ کچھ دیکھو اور عبرت پکڑو۔والد نے کہا: ہاں چلتے ہیں۔چنانچہ ہم سب سوار ہو لیے۔تو انہوں نے کچھ بستیاں دکھائیں کہ ان کے لوگ ہلاک ہو گئے تھے،مر کھپ گئے تھے اور نہیں برباد کر دیا گیا تھا اور ان کی بستیاں اپنی چھتوں پر گری پڑی تھیں۔انہوں نے کہا: کیا تم ان بستیوں کو پہچانتے ہو؟ والد نے کہا: نہیں،مجھے ان بستیوں کا اور ان لوگوں کا کوئی علم نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اس قوم کی بستیاں ہیں جن کو بغاوت اور حسد نے ہلاک کر کے رکھ دیا تھا۔بلاشبہ حسد سے نیکیوں کا نور بجھ جاتا ہے اور بغاوت اس کی تصدیق کرتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔آنکھ زنا کرتی ہے اور پھر ہاتھ،پاؤں،جسم،زبان اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتے ہیں یا تکذیب۔