Sunan Abi Dawood Hadith 4924 (سنن أبي داود)
[4924]إسنادہ حسن
وانظر الحدیث الآتي (4925) مشکوۃ المصابیح (4811)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ الْغُدَانِيُّ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی،عَنْ نَافِعٍ،قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا،قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْہِ عَلَی أُذُنَيْہِ،وَنَأَی عَنِ الطَّرِيقِ،وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ! ہَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا،قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْہِ مِنْ أُذُنَيْہِ،وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ, فَسَمِعَ مِثْلَ ہَذَا،فَصَنَعَ مِثْلَ ہَذَا. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُؤِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد يَقُولُ: ہَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھ لیں اور راستے سے دور چلے گئے۔اور پھر مجھ سے پوچھا: اے نافع! کیا بھلا کچھ سن رہے ہو؟ میں نے کہا: نہیں،تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے اٹھا لیں اور کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے اس طرح کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے ایسے ہی کیا تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث منکر (ضعیف) ہے۔