Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4962 (سنن أبي داود)

[4962]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا وُہَيْبٌ،عَنْ دَاوُدَ،عَنْ عَامِرٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ،قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ فِي بَنِي سَلَمَةَ: وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ[الحجرات: 11]،قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَہُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ،فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: يَا فُلَانُ!،فَيَقُولُونَ: مَہْ يَا رَسُولَ اللہِ, إِنَّہُ يَغْضَبُ مِنْ ہَذَا الِاسْمِ! فَأُنْزِلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ: وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ[الحجرات:

جناب ابوجبیرہ بن ضحاک بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ ((ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإیمان)) ’’برے برے ناموں اور لقبوں سے مت پکارو،ایمان لے آنے کے بعد فسق کا نام بہت برا ہے۔‘‘ یہ ہم،بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں تشریف لائے تو ہم میں کوئی ایسا نہ تھا کہ اس کے دو یا تین نام نہ ہوں۔رسول اللہ ﷺ کسی کو بلاتے ’’ارے فلاں!‘‘ تو لوگ کہتے: اے اللہ کے رسول! رکیے۔تحقیق یہ آدمی اس نام سے ناراض ہوتا ہے۔چنانچہ آیت ((ولا تنابزوا بالألقاب)) اتری۔